fbpx

Connecting to your pediatrician

کیا کرونا کے مریض کی تیمار داری سے کروناہوسکتا ہے؟

April 12, 2020 by drbajwa8
coronavirus
coronavirus-4952102_1920
hands-4934590_1280

 

کیا کرونا وائرس کے مریض کی تیمارداری سے آپ کرونا کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں؟

(اس تحریر کو آخر تک پڑھیں۔)

مندرجہ بالا سوال کا جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ کرونا وائرس انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ تو آئیے جانتے ہیں کہ: 

کرونا وائرس کیسے بیمار کرتا ہے؟

۱۔ مختلف ماحول میں کرونا وائرس کم وبیش ۳ سے ۱۲ گھنٹے (کچھ خاص حالات میں کئی دن) تک زندہ رہتا ہے۔ لیکن اس کی موجودگی کسی بھی طرح کی بیماری پیدا نہیں کر سکتی جب تک کہ یہ وائرس انسانی جسم کے اندر داخل نہ ہو جائے۔ مثلا اگر ہمارے ہاتھ پر وائرس موجود ہو تو آپ بیمار نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ اپنا ہاتھ اپنے چہرے، آنکھوں، ناک یا ہونٹوں کو ٹچ نہیں کرتے۔

۲۔ وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کا دوسرا راستہ ہوائی منتقلی ہے۔ مثلا کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا مریض کی سانسوں سے نکلنے والے غبار کے تین سے چھ فٹ تک کے دائرے میں سانس لینے والے افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

۳۔ وائرس انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد تین سے چودہ دن تک اپنی افزائش نسل کرتا ہے، خطرے کی بات یہ ہے کہ اس دوران متاثرہ فرد کو شاید کوئی بھی علامات ظاہر نہ ہوں۔ اور اس تمام عرصے میں ایسے افراد سانس لینے اور اپنے چہرے کو ہاتھ لگا کر دوسرے افراد یا دیگر سطحوں گھر کی کنڈی، گھنٹی، برتن، بجلی کے بٹن، بالوں کی کنگھی وغیرہ کو چھونے سے دوسرے افراد تک وائرس منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامات ظاہر نہ ہونے والے افراد سے یہ وائرس دیگر بیمار افراد کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

۴۔ وائرس کے مندرجہ بالا طریقہ واردات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ کرونا وائرس متاثرہ شخص میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی دوسرے افراد تک پھیل سکتا ہے، اس لیے وبائی حالات کے ختم ہونے تک نہ صرف مریضوں بلکہ ہر فرد کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

اب چونکہ ہمیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ بظاہر تندرست نظر آنے والے افراد کرونا وائرس کے زیادہ تیزی سے پھیلاو کا باعث بن سکتے ہیں ، لہذابرائے مہربانی کرونا کے بیمار مریض کی تیمارداری کو معاشرتی کلنک نہ بنایا جائے اور چند احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہم باآسانی کرونا کے مریضوں کی تیمارداری کرکے انہیں نہ صرف صحتیاب کر سکتے ہیں بلکہ اس کی روک تھام میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 

کرونا کے مریض کی تیمار داری کیسے کی جائے؟

چونکہ کرونا وائرس کے اکثریتی مریضوں میں مرض کی شدت اتنی کم ہوتی ہے کہ ان کو ہسپتال میں داخل نہیں کیا جا سکتا اگر ایسے مریضوں کی تیمار داری میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو کسی بھی طرح کے نقصان کا اندیشہ نہ ہے۔ گھر کے اندر ایسے مریض کی دیکھ بھال کے دو پہلو ہیں:

اول پہلو یہ کہ مریض کے علاج میں کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے۔

۱۔ مریض کو مکمل آرام کرنے دیں اور بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی مریض کی تسلی اور تشفی کریں۔ 

۲۔ مریض کو وقتا فوقتا پانی، چائے ، قہوہ اور دیگر مشروبات پینے کے لیے دیں۔ (تفصیل کے لیے پچھلا آرٹیکل بھی پڑھ لیں)

۳۔ بخار اور کھانسی اور ایسی دیگر علامات کی مناسب دوائی لازمی دیں۔

۴۔ اگر مریض کسی بھی طرح کے دائمی مرض جیسا کہ ذیابیطس، دل کے امراض کی دوائی استعمال کر رہا ہو تو اس کا استعمال بلا ناغہ جاری رکھیں۔

۵۔ اگر مندرجہ ذیل ہنگامی علامات میں سے کوئی بھی ظاہر ہو تو مریض کو فوری طور پر ہسپتال جانے کے لیے ایمبولینس سروس ۱۱۲۲ وغیرہ سے رابطہ کریں۔

الف) سانس لینے میں دشواری۔

ب) سینے میں مستقل درد یا دباو۔

ج) غنودگی یا شدید ذہنی دشواری۔

د) ہونٹوں یا چہرے کا نیلگوں ہونا۔

نوٹ۔ اگر مریض کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہویا دل کا مریض ہو یا ذیابیطس یا کو ئی بھی پھیپھڑوں کا مرض پہلے سے لاحق ہوتو کم شدت کی ہنگامی علامات میں بھی طبی امداد لینا ہو گی۔

کرونا کے مریض کی گھر میں دیکھ بھال کا دوسرا پہلو مریض سے جراثیم کے پھیلاو کو روکنا ہے۔

۱۔ مریض کو ایک الگ کمرے میں باقی افراد سے الگ کر دیں اگر ممکن ہو تو غسل خانہ بھی الگ رکھیں۔

۲۔ مریض کے ذاتی استعمال کی اشیا تولیہ، چادر، کمبل اور برتن وغیرہ الگ رکھیں۔

۳۔ مریض کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہمہ وقت ماسک پہنے رہے تاکہ مریض کی سانسوں کے ساتھ خارج ہونے والے جراثیم ماسک سے باہر نہ آسکیں۔

۴۔ گھر کے تمام افراد بشمول مریض بار بار اپنےہاتھ صابن اور پانی سے دھوتے رہیں خاص طور پر مریض کے قریب ہونے کے بعد۔

۵۔ کسی بھی صورت میں چہرے، ناک اور آنکھوں کو نہ چھوئیں۔

۶۔ تمام ایسی جگہیں اور سطحیں مثلا میز، کھانے کا کاونٹر، دروازوں کے ہینڈل، بجلی کے بٹن، بالوں کا کنگھا، کتابیں وغیرہ کو باقاعدگی سے بلیچ یا ڈیٹول والے پانی سے صاف کرتے رہیں۔

۷۔ گندے کپڑے پکڑنے سے پہلے دستانے لازمی پہنیں، کپڑوں کو اپنے جسم سے دور رکھیں اور کپڑے دھونے کے فوری بعد اپنے ہاتھ صابن سے دھوئیں۔

۸۔ کسی غیر ضروری فرد بشمول ایسے گھریلو ملازمین جو کہ گھر میں نہ رہتے ہوں اور جن کے میل جول کا احوال آپ کو معلوم نہ ہو، ان کو اپنے گھر ہر گز نہ آنے دیں۔

۹۔ بچے کرونا وائرس کو پھیلانے کا تیز ترین ذریعہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ بچے ہر وقت اپنے ہاتھ ہر جگہ پر لگانے کے بعد اپنے چہرے پر لاشعوری طور پر مسلسل لگاتے ہیں لہذا:

الف) وبا کے دنوں میں بچوں کو چومنے سے حتی الامکان گریز کریں اور دوسروں کو خاص طور پر گھر کے بوڑھے افراد نانا نانی دادا دادی وغیرہ کو بھی منع کریں۔

ب) بچوں کو مریض کے کمرے میں یا مریض کے پاس جانے سے روکنے کے لیے کڑی نگرانی کریں۔

وبائی امراض اللہ تعالی کی طرف سے انسانیت کا امتحان ہیں اور ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں، برائے مہربانی کرونا وائرس کے مریض کو اچھوت نہ سمجھیں۔ یہ وبا ہے اور یہ سب کے لیے ہے۔ اس کا عمر،عہدے، مذہب، مقام، رنگ، نسل، مال، دولت، پیشے، طبقے اور وقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپ ایک مریض کی دیکھ بھال کر کے اس کو صحتیاب کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اللہ آپ کی اس ادا اور انتہائی کار خیر کے صدقے تمام انسانیت کو اس موذی مرض سے نجات دلا سکتا ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

ضروری گذارشات:

۱۔ اپنے ارد گرد کڑی نگاہ رکھیں اور ضرورت مند افراد کی معاونت ضرور کریں، اپنی زکوة اور حج کے پیسوں کا وقت سے پہلے بہترین استعمال کا یہی وقت ہے۔

۲۔ اگر کوئی تاجر یا دکاندار گراں فروشی کر رہا ہے تو اس سے کوئی چیز ہر گز نہ خریدیں اس سے گراں فروشوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس دکاندار سے خریداری کرنے والے دیگر خریدار آپ کی طرح صاحب استطاعت نہ ہوں۔

۳۔ اگر آپ صحت مند ہیں تو خون کے عطیات ضرور دیں۔ خون دینے سے انسانی قوت مدافعت بالکل بھی کم یا متاثر نہیں ہوتی۔ تھیلیسیمیا کے مریض آپ کے عطیات کے منتظر ہیں۔

۴۔ اگر آپ اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صحتیاب ہو گئے ہیں تو اپنے خون کا پلازما سرکاری منتخب کردہ اداروں کو عطیہ کریں تاکہ دوسری قیمتی جانیں بھی بچائی جا سکیں۔

۵۔ اس آرٹیکل کو دوسروں کے ساتھ لازمی شئیر کریں، کیونکہ ہم سب ملکر ہی اس مرض اور اس کے سماجی و معاشی اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سلمان باجوہ (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف سی پی ایس)

اگر آپ گھر پر رہ کر محفوظ فاصلہ اختیار کر رہے ہیں تو آپ اپنے بچوں کی صحت کے مسائل کے متعلق ڈاکٹر سلمان باجوہ سے آن لائن مشورہ کر سکتے ہیں۔ بچوں کی ویکسی نیشن سے متعلق مشورہ مفت ہے۔

#StayHome #StaySafe #DonateBlood #WatchTheNeedy

 


8 comments

  • Zahra Rauf

    April 14, 2020 at 8:05 pm

    بہترین تحریر

    Reply

  • Umair

    April 15, 2020 at 11:52 am

    great knowledge share
    This article can save lives if followed as per letter & spirit
    Thank You Dr Salman Bajwa sb

    Reply

  • Beenish Ali

    April 15, 2020 at 9:22 pm

    Good article dr salman

    Reply

    • Dr Salman Bajwa

      April 18, 2020 at 2:14 am

      Thanks ma’am 🙂
      I hope you can share this articles with your friends too 🙂

      Reply

  • Muhammad ashfaq

    April 18, 2020 at 11:48 am

    Excellent

    Reply

  • Haleema saadia

    June 9, 2020 at 11:55 pm

    God bless you sir!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Dr. Salman Bajwa

Dr Bajwa, a graduate of Rawalpindi Medical College, batch 29 (2007), did his FCPS residency at Benazir Bhutto Hospital and Holy Family Hospital.
He has worked as Registrar pediatrics in Ministry of Health, Kingdom of Saudi Arabia.

Baby Medics,
Main PWD Double Road, Police Foundation, Islamabad
Email: dr [@] salmanbajwa.com
Phone | Whatsapp: +92 333 5196658

Twitter

Copyright by Dr Salman Bajwa 2021. All rights reserved. Powered by WebMakers.net